ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس حتمی مراحل میں داخل ہوگیا

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس حتمی مراحل میں داخل ہوگیا
عدالت کا آئندہ سماعت پر ملزمان کے بیان قلمبند کرنے کا حکم
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سے متعلق کیس حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے اورعدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے بیان قلمبند کرنے کا حکم دے دیا ہے. وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی دوران سماعت عدالت میں ملزمان کو 133 سوالات پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا جس پر عدالت نے ان سے جواب طلب کیے ہیں.
عدالت نے استغاثہ کے شواہد کی روشنی میں ملزمان سے سوال پوچھے ہیں جبکہ مذکورہ سوال نامے میں ان کی لندن، سری لنکا آمد اور روانگی سے متعلق بھی سوالات کیے گئے ہیں سوال نامے میں پوچھا گیا ہے کہ کیا ملزمان استغاثہ کے الزامات کے خلاف کوئی دفاع پیش کرنا چاہتے ہیں؟عدالت کی جانب سے ملزم محسن علی، خالد شمیم اور معظم علی کو مذکورہ سوالات کی روشنی میں بیانات قلمبند کروانے کا حکم دیا گیا.عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ملزمان 16 مارچ کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیانات قلمبند کروائیں جس کے بعد عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت 16 مارچ تک ملتوی کردی گئی.خیال رہے کہ گزشتہ ماہ عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کے دوران عمران فاروق کی بیوہ اور دیگر گواہان نے برطانیہ سے بذریعہ ویڈیو لنک بیانات ریکارڈ کروائے تھے انہیں سماعتوں کے دوران بیوہ عمران فاروق نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں مذکورہ معاملے میں انصاف فراہم کیا جائے.واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا تھا.برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے تھے، چھاپے کے دوران وہاں سے 5 لاکھ سے زائد پاﺅنڈ کی رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی تھی.بعد ازاں برطانوی پولیس نے تحقیقات کے حوالے سے ویب سائٹ پر کچھ تفصیلات جاری کی تھیں جس کے مطابق 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہا تھا جبکہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچا تھا دونوں افراد شمالی لندن کے علاقے اسٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے.جون 2015 میں 2 ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کی چمن سے گرفتاری ظاہر کی گئی تھی جبکہ معظم علی کو کراچی میں نائن زیرو کے قریب ایک گھر سے گرفتار کیا گیا تھا تینوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ ایف آئی اے کی تحویل میں تھے ان ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی.5 دسمبر 2015 کو حکومت پاکستان نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا جو ایف آئی اے کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر انعام غنی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا مقدمے میں ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور اور افتخار حسین کے علاوہ معظم علی خان، خالد شمیم، کاشف خان کامران اور سید محسن علی کو بھی نامزد کیا گیا تھا.مقدمے میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش اور قاتلوں کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے جبکہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات 34، 109، 120بی،302 اور 7 شامل کی گئی تھیں.

Leave a Reply